Home Top Ad

Responsive Ads Here

غربت و تنگدستی



غربت و تنگدستی 

غربت و تنگدستی سفید پوشی کے اس دور میں صرف مستحق افرا د ہی یہ سب کچھ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ کیونکہ آج کل کے اس دور میں غربت اور بیروزگاری عروج پر ہے۔ شاید ان لوگوں کا کوئی کمانے والا نہ ہوگا۔ جس کی وجہ سے اکثر کچرے کے ڈھیر کے ساتھ بیٹھ کر پھٹے پرانے کپڑ وں میں ملبوس یہ لوگ ہوٹلوں سے بچا کھچا اور خراب کھانا لا کر کھا رہے ہوتے ہیں۔ 
انسان اپنے آپ کو بہت زیادہ نفیس سمجھتا ہے ۔ آج کل کے دور میں کثیر تعداد ایسے سفید پوش لوگوں کی ہے جو ادھار مانگتے ہوئے بھی ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔او ر خواہ ان کی جیب اجازت دیتی ہے یا نہیں مگر اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے کیلئے وہ اپنی ضروریات پر اپنی استطاعت سے بھی زیادہ خرچ کر دیتے۔ان سفید پوش انسانوں کی طرف دیکھتا ہوں تو فوراً ہی ان بھکاریوں کا خیال آتا ہے جو غربت اور تنگدستی کے باعث اپنی عزتِ نفس کا بھرم بھی نہیں رکھ پاتے۔ کوئی بھی بندہ چاہے وہ امیر ہو یا غریب کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے میں ہچکچاہٹ ضرور محسوس کرتا ہے۔
سماجی رابطہ کی ویب سائٹ فیس بک پر گزشتہ دنوں ایک نہایت ہی مختصر مگر سبق آموز تحریر دیکھنے کو ملی کہ ہوٹل میں مہنگی ترین ڈنر پارٹی کرنے کے بعد جب ہوٹل کے دروازے سے باہر نکلا تو ایک فقیر کے دس روپے کا سوال کرنے پر اس سوچ میں پڑ گیا کہ پتا نہیں یہ اس کا مستحق ہے بھی یانہیں۔ 
شاید اسلئے کہ ان لوگوں کا کوئی اور وسیلہ اور ذریعہ آمدن نہیں جس کی وجہ سے یہ لوگ ہر کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ ہمیں کیا معلوم کہ ان لوگوں کے حالات کیسے ہیں اور کیونکر یہ لوگ ایسا کررہے ہیں ؟ اگر ہم تھوڑی دیر کیلئے صرف اتنا سوچیں کہ خدانخواستہ ان کی جگہ ہم ہوتے اور ہمارے مالی حالات ہمارا ساتھ نہ دیتے ، اور لوگ ہمیں مستحق یا غیر مستحق کی الجھن میں نظر انداز کردیتے تو کیا ہوتا؟ جب کبھی حالات کی تنگدستی یا مجبوری کے سبب کسی سے ادھار مانگنا پڑ جاتا ہے تو محض اپنی سفید پوشی مجروح ہونے کے ڈر سے نظریں جھک جاتی ہیں۔تھوڑی دیر کیلئے یہ بھی سوچا جائے کہ کیا اپنی عزتِ نفس کو بالائے طاق رکھ کر ہر کسی کے سامنے سرِ عام ہاتھ پھیلانا آسان ہوتا ہے؟ اگر یہ کام آسان نہیں ہوتا تو میرے خیال میں ان لوگوں کے مستحق ہونے پر کسی قسم کا شک نہیں کیا جاسکتا۔
اشفاق احمد صاحب اپنی کتاب زاویہ جلد اوّل میں لکھتے ہیں کہ حضرت شیخ مجدد الف ثانیؒ فرماتے ہیں کہ جو شخص تجھ سے مانگتا ہے اس کو دے، کیا یہ تیری انا کیلئے کم ہے کہ کسی نے اپنا دستِ سوال تیرے آگے دراز کیا؟ پھر فرماتے ہیں ، کہ جو حق دار ہے اس کو بھی دے اور جو ناحق کا مانگنے والا ہے اس کو بھی دے تاکہ تجھے جو ناحق کا مل رہا ہے وہ ملنا بند نہ ہوجائے۔
محترم قارئین!آپ سے گزارش ہے کہ ان لوگوں کے مستحق یا نا مستحق ہونے کا فیصلہ کئے بغیر اس بابرکت مہینے میں اور اس کے بعد اللہ کی رضا اور خوشنودی کیلئے اس کی راہ میں زیادہ سے زیادہ خرچ کر کے ثواب کمائیں جو کل تک ہماری مغفرت کا باعث بنے۔ کیونکہ آپ اور میں ان افراد کے متعلق ایسا فیصلہ کرنے والے کون ہوتے ہیں؟ یہ اللہ کا اور ان لوگوں کا معاملہ ہے کہ یہ لوگ واقعی مستحق ہیں یا نہیں۔ ہمیں صرف ثواب کی غرض سے ان لوگوں کی مدد کرنی چاہئیے کیونکہ اللہ صرف نیّت کو دیکھتے ہیں اور اعمال کا دارومدار صرف نیّتوں پر ہے۔ سب انسان اس دنیا میں بغیر مال و دولت اور جائیداد کے آئے اور سب نے اسی طرح واپس لوٹ جانا۔ انسان چاہے غریب ہے یا امیر سب کچھ دنیا میں ہی چھوڑ کے جائے گا۔ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔ ثم آمین۔